ہیڈکانسٹیبل زقران علی اور اس کے اہل خانہ کی میتوں کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقہ علی زئی میں ادا کی گئی، دہشت گردی کے اس ایک اور بدترین واقعے میں زقران علی، اس کی اہلیہ ساجدہ، بیٹی سمیرا، بیٹا وقاص اور بھتیجا نوازش شہید ہوگئے تھے۔ دھماکے میں زقران کا ایک اور بیٹا اور بیٹی شدید زخمی بھی ہوئے جو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ نماز جنازہ سے قبل امام نے خطاب بھی کی جس میں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کو انسانیت کا پاس نہیں ہے اور یہ دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں، امام نے امن و امان حالات کے حوالے سے حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ،، پولیس لائنز کے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ایک ہی خاندان کے تین دیگر افراد کی میتوں کی نماز جنازہ ، خدی زئی علاقہ میں ادا کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق کل کوہاٹ میں ہنگو روڈ پر پولیس لائن کالونی میں افطار کے فوراً بعدکار بم دھماکے میں دوخواتین اور دو بچوں سمیت 21افراد جاں بحق اور 50 سے زائد شدید زخمی ہو گئے تھے۔ دھماکے سے 20کوارٹرز اور30 دُکانیں تباہ ہوگئیں اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ایک عینی شاہد کے مطابق خود کش حملہ آورنے بارودبھری گاڑی گیٹ سے ٹکرائی جبکہ پولیس کاکہناہے کہ دھماکے میں تقریباً400کلوگرام بارودی مواداستعمال کیاگیا۔ کالعدم تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے،جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر پولیس اہلکار اور ان کے خاندان والے شامل ہیں۔ ملبے کے نیچے سے خواتین اور بچوں کے چیخنے اور رونے کی آوازیں آتی رہیں ،مشینری اور بجلی کی عدم دستیابی سے اندھیرے میں امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کالعدم طالبان ترجمان احسان الله احسان نے دھمکی دی کہ سرکاری عمارتوں اورسیکورٹی فورسزپر حملے جاری رہیں گے۔ ہنگو پولیس موبائل پرحملہ،ڈی ایس پی اورکانسٹیبل جاں بحق ہنگو میں پولیس موبائل پرریموٹ کنٹرول بم حملے میں ڈی ایس پی اور کانسٹیبل سمیت دو اہل کار جاں بحق اور 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔شہر میں رات گئے ایک اور دھماکا اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے دفتر کے باہر کیا گیا جس سے عمارت کوجزوی نقصان پہنچا تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔کمشنر کوہاٹ خالد خان کے مطابق ہنگو شہر میں بائی پاس روڈ پرنامعلوم افرادنے پولیس موبائل پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا۔حملے میں کانسٹیبل ولی اللہ موقع پر جاں بحق جبکہ ڈی ایس پی فرید خان سمیت 6 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ڈی ایس پی کو پشاور کے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ 5 پولیس اہلکار شدید زخمی حالت میں کوہاٹ کے مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ حملے میں تین گاڑیوں کوبھی شدید نقصان پہنچا۔دوسری جانب ہنگو کے علاقے سیدان بانڈہ روڈ پر واقع یونیسیف کے دفتر کے باہر رات گئے ایک اوردھماکا کیا گیا جس سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ ہلکی نوعیت کے اس دھماکے کا مقدمہ مقامی تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔
ہے۔
وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا میاں افتخار حسین نے پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد پھر سے منظم ہورہے ہیں۔ ملک بارود کا ڈھیر بن چکا ہے۔ وفاق قبائلی علاقوں میں موثر آپریشن کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110